Saturday, November 24, 2018

اور دل نے کہا "ان للہ وانا علیہ راجعون“

نکاح کے سفید جوڑے میں
لال رنگ کی خوبصورت سی چنری کو چہرے پر گرائے ہوئے بیٹھی تھی_
اپنے مہندی اور چوڑیوں والے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے,
ماضی کے کچھ خوبصورت لمحوں کی فلم ذہن کے پردے پر چل رہی تھی.
..... نکاح کے کلمات کانوں میں گونج رہے تھے.
وہ کلمات جنہیں سن کے کانوں میں محبت کا رس گھول جائے۔۔
وہ کلمات جنہیں سن کے دل کی دھڑکن بڑھ جائے۔
لیکن اس وقت یہ الفاظ میرے کانوں میں سیسہ پگھلا رہے تھے
اور شاید کسی اور کے بھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
وہ میرے شدید شدید شدید اسرار پر اس وقت میرے سامنے کھڑا تھا نظریں میرے ہاتھوں پر مرکوز کیے ہوئے
ضبط کے دامن کو تھامے رکھنے کی کوشش میں مصروف تھا
میرا اسرار تھا کہ
محبت کی موت کے آخری لمحوں میں وہ میرے ساتھ ہو
تاکہ سارے خواب ایک ہی دفعہ میں کرچی کرچی ہو جاٸیں
سارے وعدے ایک ہی دفعہ میں ٹوٹ جائیں
تاکہ محبت کی قبر پر وہ خود اپنے ہاتھوں سے پھول چڑھا کے جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نکاح کے الفاظ پہلی بار مکمل ہوئے
سب میری قبول ہے کے منتظر تھے
عام طور پر ایسے موقعوں پر لڑکیوں کی گردن جھکی ہوئی ہوتی ہے
میری اب اٹھی ہوئی تھی
لب ہلے آواز نہ آئی
نکاح خواں نے کہا بیٹا زور سے بولو
کسی نے میرے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا تھا۔
"قبول ہے"
آواز کہیں دور کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی
میری نظر اس کے چہرے پر ہی تھی
ہاں البتہ وہ میری طرف دیکھنے سے گریز کر رہا تھا
میرے الفاظ سنتے ہی اس نے مٹھیاں سختی سے بھینچ لی تھیں
آنکھوں سے کچھ ٹوٹ کے گرا تھا
شاید ۔ ۔ ۔ شاید آنسو تھا۔ ۔ !
جسے اس نے بہت ہی صفائی سے دوسروں سے چھپا لیا تھا
ہاں لیکن مجھ سے چھپا نہیں سکا تھا
دوسری بار نکاح کے الفاظ دوہرائے گۓ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
"قبول ہے"
اب کہ بڑی روانی سے بولتے ہوئے میری مٹھیاں بھینچی تھی
اس نے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے دبایا تھا
اور ہاتھوں کو پیچھے کر لیا تھا
مٹھیاں ابھی بھی بند تھی اور نظریں میرے ہاتھوں پر مرکوز
میں اس کے ایک ایک تاثر کو اپنی آنکھوں میں قید کر رہی تھی
کیونکہ جب مجھے محبت کے مرنے کا یقین ہو جائے گا
تب میں اپنے آگے کی زندگی کا آغاز کر سکوں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نکاح کے الفاظ تیسری بار دوہرائے گئے
اس نے تڑپ کر میری طرف دیکھا
ان آنکھوں میں کوئی التجا نہیں تھی
صرف تکلیف، تکلیف،شدید تکلیف تھی
اور محبت کو آخری خدا حافظ تھا
میں نے آنکھوں کو بند کر لیا سسکی کو دبانے کے لیے ہونٹوں کو سختی سے بھینچ لیا
الفاظوں نے ادا ہونے سے انکار کر دیا
نکاح خواں کے الفاظ دوبارہ کانوں میں گونجے
ہونٹ کھلے ایک آنکھ سے آنسو ٹپکا کپکپاتے لفظوں سے کہا
"قبول ہے"
اور دل نے کہا "ان للہ وانا علیہ راجعون“
آنکھ کھول کے سامنے دیکھا وہ وہاں نہیں تھا
لیکن جہاں وہ کھڑا تھا وہاں ایک انگھوٹی پڑی تھی۔ ۔ ۔ ۔
کسی نے مجھے گلے لگایا
کسی نے سر پر ہاتھ رکھا
اگلے لمحے کیا کیا ہوا یاد نہیں
ہجر کا لمحہ تمام ہوا
ایک قیامت تھی جو گزری تھی ۔ ۔ ۔ ۔
لیکن قیامت بھی تو گزر ہی جانی تھی نا تو گزر گئی
" بات یہ نہیں تھی کے وہ بے وفا تھا
یا میں اپنے وعدوں سے پھر گئی تھی
بات یہ تھی کہ میں اپنے باپ کی آخری خواہش پوری کر رہی تھی
اور وہ میرے کہنے پر اپنے تایا کی آخری خواہش کا احترام کر رہا تھا" ۔ ۔ ۔
انگھوٹی کو میں نے اٹھا کے مٹھی میں دبا لیا تھا
نکاح کے بعد کمرہ خالی تھا
صرف میری ایک کزن میرے ساتھ تھی
اس کا موبائل بجا اس نے کال اٹھائی
دوسری طرف سے کسی نے کیا کہا پتہ نہیں
لیکن اس کے تاثرات عجیب تھے
جیسے رو دینے کو ہو
فون رکھ کے میری طرف بڑھی
اب وہ رو رہی تھی میرے ہاتھ پکڑ کر اسکا نام لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
اور کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہاں سے جاتے ہوئے اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔
میرے ہاتھ اس کے ہاتھوں میں سے نکل گئے
انگھوٹی دور جا کر گر گئی
اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اگلے الفاظ سننے سے کانوں نے انکار کر دیا ،
میرا دل چاہا کے میں
اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کسی گپھا میں چھپ جاؤں،
میری سننے کی صلاحیت ختم ہو جائے۔۔۔ ۔۔ ۔
اور وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بچ نہیں سکا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔
یہ سنتے ہی میں جھٹکے سے زمین پر بیٹھ گئی
کیونکہ اب اب کھڑے ہونے کی ساکت ختم ہو گئی تھی
مجھے پہلی بار محسوس ہوا کے
پیروں کے نیچے سے زمین کیسے نکلتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرے کانوں میں کچھ الفاظ گونجے
مجھے یاد آیا کے
جب میں اس سے نکاح میں آنے کے لیے اسرار کر رہی تھی
تو اسنے میری طویل گفتگو کے جواب میں
کپکپاتی آواز میں صرف ایک جملا کہا تھا
"میں مر جاؤں گا"
اور اور میں نے کہا تھا میں انتظار کروں گی....

Friday, November 23, 2018

ناقابل یقین انفارمیشن


قرآن حکیم کا دعوی ہے کہ اس میں کوئی باطل بات داخل نہیں ہوسکتی۔
اس لئے کہ قرآن حکیم کا ایک ایک حرف اتنی زبردست کیلکو لیشن اور اتنے حساب و کتاب کے ساتھ اپنی جگہ پر فٹ ہے کہ اسے تھوڑا سا ادھر ادھر کرنے سے وہ ساری کیلکو لیشن درھم برھم ہوجاتی ہے جس کے ساتھ قرآنِ پاک کی اعجازی شان نمایا ں ہے ۔
اتنی بڑی کتاب میں اتنی باریک کیلکولیشن کا کوئی رائٹر تصور بھی نہیں کرسکتا۔ بریکٹس میں دیے گئے یہ الفاظ بطور نمونہ ہیں ورنہ قرآن کا ہر لفظ جتنی مرتبہ استعمال ہوا ہے وہ تعداد اور اس کا پورا بیک گراؤنڈ اپنی جگہ خود علم و عرفان کا ایک وسیع جہان ہے۔ دنیا کا لفظ اگر 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے تو اس کے مقابل آخرت کا لفظ بھی 115 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ وعلی ھذ القیاس۔
(دنیا وآخرت:115) (شیاطین وملائکہ:88)( موت وحیات:145)(نفع وفساد:50)(اجر فصل108) (کفروایمان :25)(شہر:12)کیونکہ شہر کا مطلب مہینہ اور سال میں 12 مہینے ہی ہوتے ہیں ( اور یوم کا لفظ 360مرتبہ استعمال ہوا ہے اتنی بڑی کتاب میں اس عددی مناسبت کا خیال رکھنا کسی بھی انسانی مصنف کے بس کی بات نہیں۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔۔۔
جدیدترین ریسرچ کے مطابق قرآن حکیم کے حفاظتی نظام میں 19 کے عدد کا بڑا عمل دخل ہے ،اس حیران کن دریافت کا سہرا ایک مصری ڈاکٹر راشد خلیفہ کے سر ہے جوامریکہ کی ایک یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر تھے۔1968 ء میں انہوں نے مکمل قرآنِ پاک کمپیوٹر پر چڑھانے کے بعد قرآنِ پاک کی آیات ان کے الفاظ و حروف میں کوئی تعلق تلاش کرنا شروع کردیا رفتہ ،رفتہ اور لوگ بھی اس ریسرچ میں شامل ہوتے گئے حتی کہ 1972ء میں یہ ایک باقاعدہ سکول بن گیا۔ریسرچ کے کاکام جونہی آگے بڑھا ان لوگوں پر قدم قدم پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ، قرآنِ حکیم کے الفاظ و حروف میں انہیں ایک ایسی حسابی ترتیب نظر آئی جس کے مکمل ادراک کیلئے اس وقت تک کے بنے ہوئے کمپیوٹر ناکافی تھے۔
کلام اللہ میں 19 کا ہندسہ صرف سورہ مدثر میں آیاہے جہاں اللہ نے فرمایا:دوزخ پر ہم نے انیس محافظ فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے اس میں کیا حکمت ہے یہ تو رب ہی جانے لیکن اتنا اندازہ ضرور ہوجاتا ہے کہ 19 کے عدد کا تعلق اللہ کے کسی حفاطتی انتظام سے ہے پھر ہر سورت کے آغاز میں قرآنِ مجید کی پہلی آیت بسم اللہ کو رکھا گیا ہے گویا کہ اس کا تعلق بھی قرآن کی حفاظت سے ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں بسم اللہ کے کل حروف بھی 19 ہی ہیں پھر یہ دیکھ کر مزید حیرت میں اضافہ ہوتا ہے کہ بسم اللہ میں ترتیب کے ساتھ چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور ان کے بارے میں ریسرچ کی تو ثابت ہوا کہ اسم پورے قرآن میں 19 مرتبہ استعمال ہوا ہے لفظ الرحمن 57 مرتبہ استعمال ہوا ہے جو3×19 کا حاصل ہے اور لفظ الرحیم 114 مرتبہ استعمال ہو ہے جو 6×19 کا حاصل ہے اور لفظ اللہ پورے قرآن میں 2699 مرتبہ استعمال ہوا ہے 142×19 کا حاصل ہے لیکن یہاں بقیہ ایک رہتا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ اللہ کی ذات پاک کسی حساب کے تابع نہیں ہے وہ یکتا ہے۔ قرآن مجید کی سورتوں کی تعداد بھی 114 ہے جو 6×19 کا حاصل ہے سورہ توبہ کےآغاز میں بسم اللہ نازل نہیں ہوئی لیکن سورہ نمل آیت نمبر 30 میں مکمل بسم اللہ نازل کرکے 19 کے فارمولا کی تصدیق کردی اگر ایسا نہ ہوتا تو حسابی قاعدہ فیل ہوجاتا۔
اب آئیے حضور علیہ السلام پر اترنے والی پہلی وحی کی طرف : یہ سور علق کی پہلی 5 آیات ہیں :اور یہیں سے 19 کے اس حسابی فارمولے کا آغاز ہوتا ہے! ان 5 آیات کے کل الفاظ 19 ہیں اور ان 19 الفاظ کے کل حروف 76 ہیں جو ٹھیک 4×19 کا حاصل ہیں لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی جب سورہ علق کے کل حروف کی گنتی کی گئ تو عقل تو ورطہ حیرت میں ڈوب گئی کہ اسکے کل حروف 304 ہیں جو 4×4×19 کا حاصل ہیں۔ اور سامعین کرام ! عقل یہ دیکھ کر حیرت کی اتھاہ گہرائیوںمیں مزید ڈوب جاتی ہے کہ قرآنِ پاک کی موجودہ ترتیب کے مطابق سورہ علق قرآن پاک کی 96 نمبر سورت ہے اب اگر قرآن کی آخری سورت والناس کی طرف سے گنتی کریں تو اخیر کی طرف سے سورہ علق کا نمبر 19 بنتا ہے اور اگر قرآن کی ابتدا سے دیکھیں تو اس 96 نمبر سورت سے پہلے 95 سورتیں ہیں جو ٹھیک 5×19 کا حاصل ضرب ہیں جس سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ سورتوں کے آگے پیچھے کی ترتیب بھی انسانی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حسابی نظام کا ہی ایک حصہ ہے۔ قرآنِ پاک کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورہ نصر ہے یہ سن کر آپ پر پھرایک مرتبہ خوشگوار حیرت طاری ہوگی کہ اللہ پاک نے یہاں بھی 19 کا نظام برقرار رکھا ہے پہلی وحی کی طرح آخری وحی سورہ نصرٹھیک 19 الفاظ پر مشتمل ہے یوں کلام اللہ کی پہلی اور آخری سورت ایک ہی حسابی قاعدہ سے نازل ہوئیں۔
سورہ فاتحہ کے بعد قرآن حکیم کی پہلی سورت سورہ بقرہ کی کل آیات 286 ہیں 2 ہٹادیں تو مکی سورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے 6ہٹا دیں تو مدنی سورتوں کی تعداد سامنے آتی ہے۔86 کو 28 کے ساتھ جمع کریں تو کل سورتوں کی تعداد 114 سامنے آتی ہے۔
آج جب کہ عقل وخرد کو سائنسی ترقی پر بڑا ناز ہے یہی قرآن پھر اپنا چیلنج دہراتا ہے حسابدان، سائنسدان، ہر خاص وعام مومن کافر سبھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ آج بھی کسی کتاب میں ایسا حسابی نظام ڈالنا انسانی بساط سے باہر ہے طاقتور کمپوٹرز کی مدد سے بھی اس جیسے حسابی نظام کے مطابق ہر طرح کی غلطیوں سے پاک کسی کتاب کی تشکیل ناممکن ہوگی لیکن چودہ سو سال پہلے تو اس کا تصور ہی محال ہے لہذا کوئی بھی صحیح العقل آدمی اس بات کا انکارنہیں کرسکتا کہ قرآنِ کریم کا حسابی نظام اللہ کا ایسا شاہکار معجزہ ہے جس کا جواب قیامت تک کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔

Thursday, November 22, 2018

صَلَّی اللّهُ عَلٰی حَبِیْبِهٖ سـیّدنا مُحَمَّـــدٍ وَّآلِـهٖ وَسَلَّمْ🌹 تمام عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کو دل کی گہرائیوں سے جشنِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ بہت بہت مبارک ہو ۔ ۔ ۔ 💙🌷💙


                                                                                                              بہت رنجیدہ و غمگین ہے دل یا رسول اللہ
                                                                                                             کرم کر دو کلی دل کی اٹھے کھل یا رسول اللہ 
                                                                                                                صَلَّی اللّهُ عَلٰی حَبِیْبِهٖ سـیّدنا مُحَمَّـــدٍ وَّآلِـهٖ وَسَلَّمْ
🌹


خدا کہتے نہیں بنتی' جُدا کہتے نہیں بنتی__
خدا پر اِس کو چھوڑا ہے' وہی جانے کہ کیا تمﷺ ہو..
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم..


اپنی بخشش اپنی بھلائی کا سامان نکالا ہے..
میں تو نبیﷺ کے گُن گاتا ہوں جب سے ہوش سنبھالا ہے..
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم..

مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے
بن کے سرکار ﷺ کا مہمان مدینے میں رہے

دور رہ کر بھی اٹھاتا ہوں حضوری کے مزے میں 
یہاں اور مری جان مدینے میں رہے

اللہ اللہ سر افرازی صحرائے حجاز
ساری مخلوق کا سلطان مدینے میں رہے

ان کی الفت غم کونین بھلا دیتی ہے
جتنے دن آپ ﷺ کا مہمان مدینے میں رہے

چھوڑ آیا ہوں دل و جان یہ کہہ کر فقیر 
آ رہا ہوں، میرا سامان مدینے میں رہے

                                                                                                            جس کریم آقاﷺ کے صدقے ملی ہیں یہ سانسیں
                                                                                                         اُس کریم ﷺ کا میلاد میں کیوں نہ مناؤں.... 💕
                                                                                                                                                             
کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
ہر طرف پھول مہکتے ہیں بہار آئی ہے
ان کے بیماروں میں عیسیٰ بھی نظر آتے ہیں
                                                                                                                      واہ کیا سرورِ عالمﷺ کی مسیحائی ہے 

آپ کے گرد کعبہ رہا گھومتا
چاند جھولے میں پاٶں رہا چومتا
حوریں جھولا جھلاتی رہیں آپ کا
آپ کے نور نے جگ کو چمکا دیا
 صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

قربت تو بڑی چیز ہے اے جانِ تمنّا ﷺ
میرے دل کی تسلّی کو تیرا ﷺ نام بہت ہے
💞 صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم

آئی پھر یاد مدینے کی رلانے کے لئیے
دل تڑپ اُٹھا ھے دربا میں جانے کے لیئے
کاش میں اڑتا پھروں خاکِ مدینہ بن کر
اور مچلتا رھوں سرکار کو پانے کے لیئے
بخش دی نعت کی دولت میرے آقا نے مجھے
کتنا پیارا ھے وسیلہ اُنھیں پانے کے لیئے
غم نھیں چھوڑ دے یہ سارا زمانہ مجھ کو
میرے آقا تو ھیں سینے سے لگانے کے لیئے
یہ تو بس ان کا کرم ھے کے وہ سن لیتے ھیں ؛؛؛؛
ورنہ یہ لب کہاں فریاد سنانے کے لیئے ،،،،
صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم


جن کے ٹکڑوں پہ پلتا ہے سارا جہاں
اس سخی کی سخاوت پہ لاکھوں ســـلام
صلی اللہ علیہ والہ وسلم❤️


💝صل علی نبینا صل علی محمدﷺ💝
💝صل علی شفیعنا صل علی محمد ﷺ💝
جشن سوہنےﷺ دے منائیے تے کمی رہندی نہیں
گیت سرکار ﷺدے گائیے تے کمی رہندی نہیں
چھڈ کے در غیراں دا سخیاں دے سخی دے در تے
رب دے محبوبﷺ تے نبیاں دے نبی ﷺدے در تے
جا کے جھولی جے وچھائیے تے کمی رہندی نہیں
جشن سوہنے ﷺدے منائیے تے کمی رہندی نہیں
مار کھا کھا کے بلالؓ آقاﷺ دا ناء لیندا سی
کعبے دی چھت تے کھڑا ہو کے ایخو کہندا سی
سوہنے لئی مار جے کھائیے تے کمی رہندی نہیں
جشن سوہنے ﷺدے منائیے تے کمی رہندی نہیں
 صلی اللہ علیہ والہ و سلم 


درد و الم مصیبتیں ٹالیں مرے حبیب ﷺ
تیرہ شبی کو میری اجالیں مرے حبیب ﷺ
ہم پر رداۓ اسوہ ءِ حسنہ کو ڈال دیں
سمجھیں نہ غیر اپنا بنا لیں مرے حبیب ﷺ
ممکن ہے کب کہ ایسے مسافر ہوں گرد راہ
امید آپ ﷺ سے جو لگا لیں مرے حبیب ﷺ
گھبرائیں گے جلیل سے جس وقت انبیاء
ایسے میں آپ ﷺ سب کو سنبھالیں مرے حبیب ﷺ
امت کو بخش کر کہے گا آپ ﷺ کو خدا
اب سر جھکے ہوئے کو اٹھا لیں مرے حبیب ﷺ
جن پر عیاں ہو آپ ﷺ کی سیرت کا معجزہ
سر وہ عدو بھی اپنا جھکا لیں مرے حبیب ﷺ
یوں بڑھ گئ لگن ہے کہ عمران کہتی ہے
روضے پہ مجھ کو آج بلا لیں مرے حبیب ﷺ
اللَّهُـــمَّ صَـــلِّ عَلَــــى سَيِّدِنَا مُحَمَّــــدٍ وَعَلَـــى آلِهِ وَصَــــحْبِهِ وَسَلِّــــمْ💞


ذرہءِ خاک ہوں پر سدرہ نشیں رہتا ہوں
دل ہی دل میں میں مدینے کا مکیں رہتا ہوں
پاس ہیں وہ ﷺ ہے عیاں ان پہ مرا حال و قال
اسی ایمان سے میں صاحبِ دیں رہتا ہوں
گنگناتا ہوں میں جب آپ ﷺ کی مدحت آقا ﷺ
عرش پر ہوتا ہوں کب سوۓ زمیں رہتا ہوں
ربط رکھتا ہوں درود اور لبوں کا ہر وقت
دور رہ کر بھی میں جالی کے قریں رہتا ہوں
خاک طیبہ کا ہوا ایسا اثر چہرے پر
گرد افراد میں ہر طرح مبیں رہتا ہوں
ان ﷺ کے ٹکڑوں سے تعلق جو بنا رکھا ہے
اسی نسبت سے میں یاروں میں بریں رہتا ہوں
مر ہی جاؤں میں اٹھانے سے ہے بہتر عمران
جو جھکائے ہوٸے چوکھٹ پہ جبیں رہتا ہوں
اللَّهُـــمَّ صَـــلِّ عَلَــــى سَيِّدِنَا مُحَمَّــــدٍ وَعَلَـــى آلِهِ وَصَــــحْبِهِ وَسَلِّــــمْ💞


لاکھوں سلام لطف کے اس سائبان پر
بے سایہ ہو کے سایہ ہے سارے جہان پر
الصلوة والسلام علیک یاسیدی یارسول اللہ والہﷺ
وعلی الک وآصحابک یاسیدی یاحبیب اللہ والہﷺ
اللهم صل على سيدنا محمد النبي الأمي
وعلى آلہ وازواجہ واھل بیتہ واصحٰبہ وبارك وسلم 
اللھم ربنّا آمین

عجیب فیض ہے آقاﷺ تیری محبت کا
کے درود تجھ پر پڑھو اور خود سنورتا جاوں
سیدنا کریمﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ


ذرہءِ خاک ہوں پر سدرہ نشیں رہتا ہوں
دل ہی دل میں میں مدینے کا مکیں رہتا ہوں
پاس ہیں وہ ﷺ ہے عیاں ان پہ مرا حال و قال
اسی ایمان سے میں صاحبِ دیں رہتا ہوں
گنگناتا ہوں میں جب آپ ﷺ کی مدحت آقا ﷺ
عرش پر ہوتا ہوں کب سوۓ زمیں رہتا ہوں
ربط رکھتا ہوں درود اور لبوں کا ہر وقت
دور رہ کر بھی میں جالی کے قریں رہتا ہوں
خاک طابہ کا ہوا ایسا اثر چہرے پر
گرد افراد میں ہر طرح مبیں رہتا ہوں
ان ﷺ کے ٹکڑوں سے تعلق جو بنا رکھا ہے
اسی نسبت سے میں یاروں میں بریں رہتا ہوں
مر ہی جاؤں میں اٹھانے سے ہے بہتر عمران
جو جھکائے ہوٸے چوکھٹ پہ جبیں رہتا ہوں
اللَّهُـــمَّ صَـــلِّ عَلَــــى سَيِّدِنَا مُحَمَّــــدٍ وَعَلَـــى آلِهِ وَصَــــحْبِهِ وَسَلِّــــمْ💞


🌹💗حشر میں جب لوگ چومیں——آپ کا دست کرم 💗🌹
🌹💟سب سے چھپ کر لوں میں ——بوسہ آپ کی نعلین کا 💟🌹
🌹💚آمین بجاالنبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم...💚🌹


قربت تو بڑی چیز ہے اے جانِ تمنّا ﷺ
میرے دل کی تسلّی کو تیرا ﷺ نام بہت ہے
💞 صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم 💞






زلف دیکھی ھے یا نظروں نے گھٹا دیکھی ھے
ارے لٹ گیا وہ جس نے بھی محمدﷺ کی ادا دیکھی ھے
اپنے چہرے کو نہ چھپانا میرے سوھنے من موھنے آقاﷺ
کہ بعد مدت کے مریضوں نے شفا دیکھی ھے


ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے
اور گلیوں میں قصدن بھٹک جائیں گے
ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے
جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا
بندگی کا قرینہ بدل جائے گا
سر جھکانے کی فرصت ملے گی کیسے
خود ہی آنکھوں سے سجدے ٹپک جائیں گے۔۔۔
اللهم صل على سيدنا محمد النبي الأمي
وعلى آلہ وازواجہ واھل بیتہ واصحٰبہ وبارك وسلم 
اللھم ربنّا آمین



                                                                                                                        مقدس ربیع اوّل کا چاند دیکھنا نصیب ہوا
                                                                                                                       بخشش کا مغفرت کا دن تھوڑا قریب ہوا
                                                                                                                        گناہوں کی غلاظت کا ایک ڈھیر تھا میرا
                                                                                                                       نجات کاساماں میرا محبوب پیاراحبیب هوا
                                                                                                               خرچ کر کے میرے آقاﷺ کےمیلاد پر پیسے
                                                                                                                        امیر پھر دنیاوآخرت میں ہر غریب ہوا
                                                                                                                        ہرمریض کو حاصل ہوجاٸےگی اب شفاء
‏‎                                                                                                                      عطا ہم کو اک حسین و جمیل طبیب ہوا

دست بسـتـــہ ہوں شکستـــہ ہوں بہت خستـــہ ہوں
لاج رکھ لیں کہ حۘضورﷺ آپﷺ سے وابستہ ہوں
صَلّی اللہُ عَلَیہِ واٰلِہٖ وَسَلِّمْ


قدر نبی دا اے کی جانن دنیا دار کمینے,
قدر نبی دا جانن والے سو گئے وچ مدینے,
قدر نبی دا اللہ جانے یا جانے اصحابی,
قدر پانی دا مچھلی جانے یا جانے مرغابی,
قدر پھلاں دا بلبل جانے صاف دماغاں والی,
قدر پھلاں دا گدھ کی جانے مردے کھاون والی,
قدر یوسف دا معلوم ہویا پایاں مصر گیاں نوں,
قدر نبی دا معلوم ہوسی قبراں وچ پیاں نوں,
قدر گھٹاون نہ شرماون شرماں دور ہٹایاں,
محشر دے دن بے قدراں نوں بھل جاون وڈیایاں,
اس دن آکڑ تے مغروری نکل جاوے گی تیری,
جدوں کٙیا اے محمد سرورؐ اے نیاں امت میری,
ٹر گئے نبی محمدؐ ورگے, تے ول تقدیر ربّانی,
بس کر عالم چھڈ دے کھیڑا تے لمبی چھوڑ کہانی,
لے او یار حوالے رب دے تے میلے چار دناں دے,
اس دن عید مبارک ہوسی تے جس دن فیر ملاں گے . . .
صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وازواجہ وبارک وسلم کثیراً کثیرا 

دید کی ہے طلب یا رسول اللہ ﷺ
دکھا دیجئے اک جھلک یا رسول اللہ ﷺ
اگرچہ بہت گنہگار وبدکار ہوں میں یا رسول اللہ ﷺ
مگر آپ کے عشق کا طلبگار ہوں یا رسول اللہ ﷺ
سب کے دامن مرادوں سے بھرتے ہو آپ یارسول اللہ ﷺ
رکھ لیجئے میرا بھی بھرم یارسول اللہ ﷺ
💜💖💚💖💝
ہے مُجھ پہ کرم میرے سرکارﷺ کا
ُسُدھ بُدھ کھوگئ تیرے ﷺعشق میں
اللهم صل على سيدنا محمد وعلى آل سيدنا محمد وبارك وسلم


روک لیتی ہے آپ کی نسبت، تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں __
یہ کرم ہے حضور کا ہم پر، آنے والے عذاب ٹلتے ہیں ___!
یہ کرم ہے حضور کا ہم پر ____
صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم ___ 

سحر کا وقت تھا معصوم کلیاں مسکراتی تھیں
ہوائیں خیر مقدم کے ترانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گنگناتی تھیں


حال دل کس کوسناءوں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے
کیوں کسی کے در پہ جاءوں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے
میں گدائے مصطفے ﷺ ہوں یہ میری پہچان ھے
غم کیوں میرے پاس آئیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے
یہ تو ہو سکتا نہیں کہ بات ممکن ہی نہیں
میرے گھر آلام آئیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے
کہہ رہا ہے آپ ﷺ کا رب " انت فیھم " آپ ﷺ سے
کیوں انہیں دوں میں سزائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے
اپنا جینا مرنا اب اسی چوکھٹ پہ ہے
اب کہاں سرکار جائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے
میں یہ کیسے مان جاءوں شام کے دربار میں
چھین لے کوئی ردائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے
سامنے ہے اےعلی کے لعل اسوہ آپ کا
کیوں کسی کا خوف کھائیں آپ کے ﷺ ہوتے ہوئے
صلی اللہ علی حبیبہ محمد وآلہ واصحابہ وسلم 💗


تمام عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کو دل کی گہرائیوں سے
جشنِ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ بہت بہت مبارک ہو ۔ ۔ ۔ 💙🌷💙

مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ


 ​

تمام عاشقانہ رسول سے گزارش ہےکہ میری اس محبت بھری پوسٹ کو ضارور شیئرکریں بہت شکریہ







Tuesday, November 20, 2018

پرچی پر لکھ دیا "تُم خُوبصورت ہو"


 جلد کے او۔پی۔ڈی میں روزانہ بے شُمار عورتیں علاج کرانے آتی ہیں ۔ چنچل لڑکیاں، نئی نویلی دُلہنیں، پرانی شادی شُدہ، حاملہ،ادھیڑ عُمر اور بزرگ خواتین،ہاؤس وائف ورکن ویمن،اور اکثر بالکل ان پڑھ۔ صُبح اپنے شوہر کو ناشتہ دے کر بچوں کو سکول بھیج کر ان خواتین کی بہت بڑی تعداد (دیگر خطرناک بیماریوں کے علاوہ) اپنے رنگ کا علاج کرانے کے لیے آتی ہیں۔ ڈاکٹر سے کہتی ہیں کہ کوئی ایسی دوائی دے دیں جن سے رنگ گورا ہو جائے۔ "کیوں" ؟؟ چونکہ ایک ماہ بعد شادی ہے۔ رشتہ والے دیکھ کر چلے جاتے ہیں۔ خاوند کہتا ہے چہرہ بُرا ہو گیا ہے دوسرے شادی کر لوُں گا۔ جاب پر جاتی ہوں تو سب مُڑمُڑ کر دیکھتے ہیں۔ بچیوں کی شادی کرنی ہے لوگ کہتے ہیں اگر ماں ایسی ہے تو بیٹی کیسی ہوگی۔ رنگ گورا کرنے کے لیے مکس کریم اور کولڈ کریم استعمال کی تھی چہرے پر دانے نکل آۓ۔
ایک ایسا مُلک جہاں جلد کی قُدرتی رنگت ہی سانولی یا گندمی ہے جو کہ بے حد دلکش ہے۔ ہم نے بہت چھوٹی عمر سے ہی اپنہ خواتین کے دماغ میں بٹھا دیا ہے کہ نہ ان کی تعلیم، نہ شخصیت نہ عقل، نہ فہم نہ تربیت اور نہ ہی قابلیت ان کو خوبصورت بنا سکتی ہے۔ اگر ان کو خوبصورت بنا سکتی ہے تو صرف رنگ گورا کرنے والی کریم۔ اگر کوئی چیز ان کے مسائل کا حال ہے تو وہ ہے ربگ گورا کرنے والی کریم۔
ڈاکٹر کے سامنے بیٹھی سترہ، اٹھارہ سال کی لڑکی ڈاکٹر کے کھلے ہوئے پین کو بہت اُمید کے ساتھ دیکھ رہی تھی کہ اس سے لکھی جانے والی کریم اس کےزندگی بدل دے گی۔ ڈاکٹر نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا اور اس پرچی پر لکھ دیا
"تُم خُوبصورت ہو"
تحریر: علی خاں ایڈووکیٹ

ایک حکیم اور اسکی بیوی کا اللہ پر بھروسہ

پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے، جن کا مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ حکیم صاحب روزانہ صبح مطب جانے سے قبل بیو...