نکاح کے سفید جوڑے میں
لال رنگ کی خوبصورت سی چنری کو چہرے پر گرائے ہوئے بیٹھی تھی_
لال رنگ کی خوبصورت سی چنری کو چہرے پر گرائے ہوئے بیٹھی تھی_
اپنے مہندی اور چوڑیوں والے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے,
ماضی کے کچھ خوبصورت لمحوں کی فلم ذہن کے پردے پر چل رہی تھی.
..... نکاح کے کلمات کانوں میں گونج رہے تھے.
وہ کلمات جنہیں سن کے کانوں میں محبت کا رس گھول جائے۔۔
ماضی کے کچھ خوبصورت لمحوں کی فلم ذہن کے پردے پر چل رہی تھی.
..... نکاح کے کلمات کانوں میں گونج رہے تھے.
وہ کلمات جنہیں سن کے کانوں میں محبت کا رس گھول جائے۔۔
وہ کلمات جنہیں سن کے دل کی دھڑکن بڑھ جائے۔
لیکن اس وقت یہ الفاظ میرے کانوں میں سیسہ پگھلا رہے تھے
اور شاید کسی اور کے بھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
لیکن اس وقت یہ الفاظ میرے کانوں میں سیسہ پگھلا رہے تھے
اور شاید کسی اور کے بھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
وہ میرے شدید شدید شدید اسرار پر اس وقت میرے سامنے کھڑا تھا نظریں میرے ہاتھوں پر مرکوز کیے ہوئے
ضبط کے دامن کو تھامے رکھنے کی کوشش میں مصروف تھا
میرا اسرار تھا کہ
محبت کی موت کے آخری لمحوں میں وہ میرے ساتھ ہو
تاکہ سارے خواب ایک ہی دفعہ میں کرچی کرچی ہو جاٸیں
سارے وعدے ایک ہی دفعہ میں ٹوٹ جائیں
تاکہ محبت کی قبر پر وہ خود اپنے ہاتھوں سے پھول چڑھا کے جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ضبط کے دامن کو تھامے رکھنے کی کوشش میں مصروف تھا
میرا اسرار تھا کہ
محبت کی موت کے آخری لمحوں میں وہ میرے ساتھ ہو
تاکہ سارے خواب ایک ہی دفعہ میں کرچی کرچی ہو جاٸیں
سارے وعدے ایک ہی دفعہ میں ٹوٹ جائیں
تاکہ محبت کی قبر پر وہ خود اپنے ہاتھوں سے پھول چڑھا کے جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نکاح کے الفاظ پہلی بار مکمل ہوئے
سب میری قبول ہے کے منتظر تھے
عام طور پر ایسے موقعوں پر لڑکیوں کی گردن جھکی ہوئی ہوتی ہے
میری اب اٹھی ہوئی تھی
لب ہلے آواز نہ آئی
نکاح خواں نے کہا بیٹا زور سے بولو
کسی نے میرے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا تھا۔
سب میری قبول ہے کے منتظر تھے
عام طور پر ایسے موقعوں پر لڑکیوں کی گردن جھکی ہوئی ہوتی ہے
میری اب اٹھی ہوئی تھی
لب ہلے آواز نہ آئی
نکاح خواں نے کہا بیٹا زور سے بولو
کسی نے میرے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا تھا۔
"قبول ہے"
آواز کہیں دور کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی
میری نظر اس کے چہرے پر ہی تھی
ہاں البتہ وہ میری طرف دیکھنے سے گریز کر رہا تھا
میرے الفاظ سنتے ہی اس نے مٹھیاں سختی سے بھینچ لی تھیں
آنکھوں سے کچھ ٹوٹ کے گرا تھا
شاید ۔ ۔ ۔ شاید آنسو تھا۔ ۔ !
جسے اس نے بہت ہی صفائی سے دوسروں سے چھپا لیا تھا
ہاں لیکن مجھ سے چھپا نہیں سکا تھا
دوسری بار نکاح کے الفاظ دوہرائے گۓ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
میری نظر اس کے چہرے پر ہی تھی
ہاں البتہ وہ میری طرف دیکھنے سے گریز کر رہا تھا
میرے الفاظ سنتے ہی اس نے مٹھیاں سختی سے بھینچ لی تھیں
آنکھوں سے کچھ ٹوٹ کے گرا تھا
شاید ۔ ۔ ۔ شاید آنسو تھا۔ ۔ !
جسے اس نے بہت ہی صفائی سے دوسروں سے چھپا لیا تھا
ہاں لیکن مجھ سے چھپا نہیں سکا تھا
دوسری بار نکاح کے الفاظ دوہرائے گۓ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
"قبول ہے"
اب کہ بڑی روانی سے بولتے ہوئے میری مٹھیاں بھینچی تھی
اس نے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے دبایا تھا
اور ہاتھوں کو پیچھے کر لیا تھا
مٹھیاں ابھی بھی بند تھی اور نظریں میرے ہاتھوں پر مرکوز
میں اس کے ایک ایک تاثر کو اپنی آنکھوں میں قید کر رہی تھی
کیونکہ جب مجھے محبت کے مرنے کا یقین ہو جائے گا
تب میں اپنے آگے کی زندگی کا آغاز کر سکوں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس نے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے دبایا تھا
اور ہاتھوں کو پیچھے کر لیا تھا
مٹھیاں ابھی بھی بند تھی اور نظریں میرے ہاتھوں پر مرکوز
میں اس کے ایک ایک تاثر کو اپنی آنکھوں میں قید کر رہی تھی
کیونکہ جب مجھے محبت کے مرنے کا یقین ہو جائے گا
تب میں اپنے آگے کی زندگی کا آغاز کر سکوں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نکاح کے الفاظ تیسری بار دوہرائے گئے
اس نے تڑپ کر میری طرف دیکھا
ان آنکھوں میں کوئی التجا نہیں تھی
صرف تکلیف، تکلیف،شدید تکلیف تھی
اور محبت کو آخری خدا حافظ تھا
میں نے آنکھوں کو بند کر لیا سسکی کو دبانے کے لیے ہونٹوں کو سختی سے بھینچ لیا
الفاظوں نے ادا ہونے سے انکار کر دیا
نکاح خواں کے الفاظ دوبارہ کانوں میں گونجے
ہونٹ کھلے ایک آنکھ سے آنسو ٹپکا کپکپاتے لفظوں سے کہا
اس نے تڑپ کر میری طرف دیکھا
ان آنکھوں میں کوئی التجا نہیں تھی
صرف تکلیف، تکلیف،شدید تکلیف تھی
اور محبت کو آخری خدا حافظ تھا
میں نے آنکھوں کو بند کر لیا سسکی کو دبانے کے لیے ہونٹوں کو سختی سے بھینچ لیا
الفاظوں نے ادا ہونے سے انکار کر دیا
نکاح خواں کے الفاظ دوبارہ کانوں میں گونجے
ہونٹ کھلے ایک آنکھ سے آنسو ٹپکا کپکپاتے لفظوں سے کہا
"قبول ہے"
اور دل نے کہا "ان للہ وانا علیہ راجعون“
آنکھ کھول کے سامنے دیکھا وہ وہاں نہیں تھا
لیکن جہاں وہ کھڑا تھا وہاں ایک انگھوٹی پڑی تھی۔ ۔ ۔ ۔
آنکھ کھول کے سامنے دیکھا وہ وہاں نہیں تھا
لیکن جہاں وہ کھڑا تھا وہاں ایک انگھوٹی پڑی تھی۔ ۔ ۔ ۔
کسی نے مجھے گلے لگایا
کسی نے سر پر ہاتھ رکھا
اگلے لمحے کیا کیا ہوا یاد نہیں
ہجر کا لمحہ تمام ہوا
ایک قیامت تھی جو گزری تھی ۔ ۔ ۔ ۔
لیکن قیامت بھی تو گزر ہی جانی تھی نا تو گزر گئی
کسی نے سر پر ہاتھ رکھا
اگلے لمحے کیا کیا ہوا یاد نہیں
ہجر کا لمحہ تمام ہوا
ایک قیامت تھی جو گزری تھی ۔ ۔ ۔ ۔
لیکن قیامت بھی تو گزر ہی جانی تھی نا تو گزر گئی
" بات یہ نہیں تھی کے وہ بے وفا تھا
یا میں اپنے وعدوں سے پھر گئی تھی
بات یہ تھی کہ میں اپنے باپ کی آخری خواہش پوری کر رہی تھی
اور وہ میرے کہنے پر اپنے تایا کی آخری خواہش کا احترام کر رہا تھا" ۔ ۔ ۔
یا میں اپنے وعدوں سے پھر گئی تھی
بات یہ تھی کہ میں اپنے باپ کی آخری خواہش پوری کر رہی تھی
اور وہ میرے کہنے پر اپنے تایا کی آخری خواہش کا احترام کر رہا تھا" ۔ ۔ ۔
انگھوٹی کو میں نے اٹھا کے مٹھی میں دبا لیا تھا
نکاح کے بعد کمرہ خالی تھا
صرف میری ایک کزن میرے ساتھ تھی
اس کا موبائل بجا اس نے کال اٹھائی
دوسری طرف سے کسی نے کیا کہا پتہ نہیں
لیکن اس کے تاثرات عجیب تھے
جیسے رو دینے کو ہو
فون رکھ کے میری طرف بڑھی
اب وہ رو رہی تھی میرے ہاتھ پکڑ کر اسکا نام لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
نکاح کے بعد کمرہ خالی تھا
صرف میری ایک کزن میرے ساتھ تھی
اس کا موبائل بجا اس نے کال اٹھائی
دوسری طرف سے کسی نے کیا کہا پتہ نہیں
لیکن اس کے تاثرات عجیب تھے
جیسے رو دینے کو ہو
فون رکھ کے میری طرف بڑھی
اب وہ رو رہی تھی میرے ہاتھ پکڑ کر اسکا نام لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
اور کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہاں سے جاتے ہوئے اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔
میرے ہاتھ اس کے ہاتھوں میں سے نکل گئے
انگھوٹی دور جا کر گر گئی
اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اگلے الفاظ سننے سے کانوں نے انکار کر دیا ،
میرا دل چاہا کے میں
اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کسی گپھا میں چھپ جاؤں،
میری سننے کی صلاحیت ختم ہو جائے۔۔۔ ۔۔ ۔
میرے ہاتھ اس کے ہاتھوں میں سے نکل گئے
انگھوٹی دور جا کر گر گئی
اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اگلے الفاظ سننے سے کانوں نے انکار کر دیا ،
میرا دل چاہا کے میں
اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کسی گپھا میں چھپ جاؤں،
میری سننے کی صلاحیت ختم ہو جائے۔۔۔ ۔۔ ۔
اور وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بچ نہیں سکا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔
یہ سنتے ہی میں جھٹکے سے زمین پر بیٹھ گئی
کیونکہ اب اب کھڑے ہونے کی ساکت ختم ہو گئی تھی
مجھے پہلی بار محسوس ہوا کے
پیروں کے نیچے سے زمین کیسے نکلتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ سنتے ہی میں جھٹکے سے زمین پر بیٹھ گئی
کیونکہ اب اب کھڑے ہونے کی ساکت ختم ہو گئی تھی
مجھے پہلی بار محسوس ہوا کے
پیروں کے نیچے سے زمین کیسے نکلتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرے کانوں میں کچھ الفاظ گونجے
مجھے یاد آیا کے
جب میں اس سے نکاح میں آنے کے لیے اسرار کر رہی تھی
تو اسنے میری طویل گفتگو کے جواب میں
کپکپاتی آواز میں صرف ایک جملا کہا تھا
مجھے یاد آیا کے
جب میں اس سے نکاح میں آنے کے لیے اسرار کر رہی تھی
تو اسنے میری طویل گفتگو کے جواب میں
کپکپاتی آواز میں صرف ایک جملا کہا تھا
"میں مر جاؤں گا"
اور اور میں نے کہا تھا میں انتظار کروں گی....
No comments:
Post a Comment