Sunday, October 28, 2018

عورت کی اصل خوبصورتی حیا ہے.






اپنے چہرے پر غرور کرنے سے بہتر ہے کہ شکر کرو.
کیوں کے کچھ لوگوں کے چہرے پیدائشی جھلسے ہوئے ہوتے ہیں.

اگر تم کسی کے گھر کی بیل بجا رہے ہو تو کوئی تمھارے گھر کی بیل بھی بجائے گا.
اس لیئے کسی کی نادانی کا فائدہ نہ اٹھاؤ.

جو لوگ کمنٹس میں ایک دوسرے کو اوماہا اوماہا کر رہے ہوتے ہیں. یہ لفظ ان کے لیئے بنا ہے کہ جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہو کرو.

عورت کی اصل خوبصورتی حیا ہے.

غیبت وہ پتھر ہے جو لوٹ کر خود ہی کو لگتا ہے.

بنا تصدیق کے کسی پر تنقید نہ کرو. ورنہ رسوائی اٹھانی پڑے گی.

اگر کوئی قسم دے کر کہے کہ یہ میسج دس لوگوں کو سینڈ کرو.
تو ایسا کرنے سے پہلے اتنا سوچنا کہ اگر کوئی قسم دے کر کہے کہ اپنے سارے کپڑے اتار دو. تو کیا تم اتار دو گے.

رجب تو بس اتنا جانتا ہے.
منتظر ہے ایک میٹھے بول کی.
حوالہ دے دیا ہے عورت کا.

ہر وقت خدا سے معافی مانگتے رہو.
کیوں کہ ہم نہیں جانتے کب کیسے گناہ کر رہے ہیں اور کب سانس اکھڑنے والی ہے.

جس پر گزرتی ہے صرف اسی کو پتا ہوتا ہے.
کسی کے غموں کو مزاق کہنے سے پہلے خود کو اس کی جگہ پر رکھ کر سوچنا.

دولت کے امیر سب ہی ہیں. تم دل کے امیر بنو.

کسی کی رسوائی کا راز جان کر بھی اس سے رشتہ جوڑنے والے بہت کم لوگ ہوتے ہیں.
ورنہ تانے دینا تو انسانی فطرت ہے.

Friday, October 26, 2018

جان لو کہ مہمان جنت کا راستہ ہے ۔

میرے عزیزبہنیں ! جان لو کہ مہمان جنت کا راستہ ہے

ایک عورت رسول کے پاس آئی اور اپنے شوہر کی شکایت کی کہ وہ بہت زیادہ اپنے دوستوں کو گھر دعوت دیتا رہتا ہے اور وہ تھک جاتی ہے کھانے بنا بنا کے اور ان کی مہمانداری میں ۔ رسول ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ عورت واپس چلی گئی ۔ کچھ دیر بعد رسول ﷺ نے اس عورت کے شوہر کو بلوایا اور فرمایا ، " آج میں تمہارا مہمان ہوں ۔" وہ آدمی بہت خوش ہوا اور گھر جا کے اپنی بیوی کو بتایا کہ رسول الله ﷺ آج ہمارے مہمان ہیں " اس کی بیوی بیحد خوش ہو گئی اور وقت لگا کر محنت سے ہر اچھی چیز تیار کرنے جوٹ گئی اپنے سب سے معزز مہمان رسول ﷺ کے لئے ۔ اس زبردست پر تکلف دعوت کے بعد رسول ﷺ نے اس شخص سے کہا کہ 'اپنی بیوی سے کہنا کہ اس دروازے کو دیکھتی رہے جس سے میں جاوں گا '۔ تو اس کی بیوی نے ایسا ہی کیا اور دیکھتی رہی کہ کس طرح رسول ﷺ کے گھر سے نکلتے ہی آپ کے پیچھے بہت سے حشرات ، بچھو اور بہت سے مہلک حشرات بھی گھر سے باہر نکل گئے اور یہ عجیب و غریب منظر دیکھ کر وہ بے ہوش ہو گئی ۔ جب وہ رسول ﷺ کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا کہ " یہ ہوتا ہے جب تمہارے گھر سے مہمان جاتا ہے ، تو اپنے ساتھ ہر طرح کے خطرات ، مشکلات اور آزمائشیں اور مہلک جاندار گھر سے باہر لے جاتا ہے ، اور یہ اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ جو تم محنت کر کے اس کی خدمت مدارت کرتی ہو ۔" جس گھر میں مہمان آتے جاتے رہتے ہیں الله اس گھر سے محبت کرتا ہے ۔ اس گھر سے بہتر اور کیا ہو کے جو ہر چھوٹے بڑے کے لے کھلا رہے۔ ایسے گھر پر الله کی رحمت اور بخشیش نازل ہوتی رہتی ہیں ۔ رسول ﷺ نے فرمایا ، "جب الله کسی کا بھلا چاہتے ہیں تو ، اسے نوازتے ہیں , انہوں نے پوچھا ، " کس انعام سے ؟ اے الله کے رسول ﷺ ؟" آپ نے فرمایا ، " مہمان اپنا نصیب لے کر آتا ہے ، اور جاتے ہوئے گھر والوں کے گناہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے ۔ " میرے عزیزبہنیں !  رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ ، " جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کے ساتھ بے لوث ہو  رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ ، " جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کے ساتھ بے لوث ہو ۔"

میں تمہارے پانی میں کوئی پھول نہیں چھوڑوں گا


ایک بادشاہ محل کی چھت پر ٹہلنے چلا گیا۔ ٹہلتے ٹہلتے اسکی نظر محل کے نزدیک گھر کی چھت پر پڑی جس پر ایک بہت خوبصورت عورت کپڑے سوکھا رہی تھی۔
بادشاہ نے اپنی ایک باندی کو بلا کر پوچھا: کس کی بیوی ہے یہ؟
باندی نے کہا: بادشاہ سلامت یہ آپ کےغلام فیروز کی بیوی ہے۔
بادشاہ نیچے اترا ، بادشاہ پر اس عورت کے حسن وجمال کا سحر سا چھا گیا تھا۔
اس نے فیروز کو بلایا۔
فیروز حاضر ہوا تو بادشاہ نے کہا : فیروز ہمارا ایک کام ہے۔ ہمارا یہ خط فلاں ملک کے بادشاہ کو دے آو اور مجھے اسکا جواب بھی ان سے لے آنا۔
فیروز: بادشاہ کو حکم سر آنکھوں پر اور وہ اس خط کو لے کر گھر واپس آ گیا خط کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیا، سفر کا سامان تیار کیا، رات گھر میں گزری اور صبح منزل مقصود پر روانہ ہو گیا اس بات سے لاعلم کہ بادشاہ نے اس کے ساتھ کیا چال چلی ہے۔
ادھر فیروز جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہو گئا بادشاہ چپکے سے فیروز کے گھر پہنچا اور آہستہ سے فیروز کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
فیروز کی بیوی پوچھا کون ہے؟
بادشاہ نے کہا: میں بادشاہ تمہارے شوہر کا مالک۔
تواس نے دروازہ کھولا۔ بادشاہ اندر آ کر بیٹھ گیا۔
فیروز کی بیوی نے حیران ہو کر کہا: آج بادشاہ سلامت یہاں ہمارے غریب خانے میں۔
بادشاہ نے کہا : میں یہاں مہمان بن کر آیا ہوں۔
فیروز کی بیوی بادشاہ کا مطلب سمجھ کر کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں آپکے اس طرح آنے سے جس میں مجھے کوئی خیر نظر نہیں آ رہا۔
بادشاہ نے غصے میں کہا: اے لڑکی کیا کہہ رہی ہو تم ؟ شاید تم نے مجھے پہچان نہیں میں بادشاہ ہوں تمہارے شوہر کا مالک۔
فیروز کی بیوی نے کہا: بادشاہ سلامت میں جانتی ہوں کہ آپ ہی بادشاہ ہیں لیکن بزرگ کہہ گئے ہیں کہ
اگر مچھر گر جائے کھانے میں
تو میں ہاتھ اٹھا دیتا ہوں اگرچہ کے میرا دل کرتا ہے کھانے کو
میں تمہارے پانی میں کوئی پھول نہیں چھوڑوں گا
لوگوں کا بکثرت یہاں آنے جانے کی وجہ سے
شیر کو اگرچہ جتنی بھی تیز بھوک لگی ہو لیکن وہ مردار تو نہیں کھانا شروع کر دیتا
اور کہا: بادشاہ سلامت تم اس کٹھورے میں پانی پینے آ گئے ہو جس میں تمہارے کتے نے پانی پیا ہے۔
بادشاہ کو اس عورت کی باتوں سے بڑا شرمسار ہوا اور اسکو چھوڑ کر واپس چلا گیا لیکن اپنے چپل وہی پر بھول گیا ۔
یہ سب تو بادشاہ کی طرف سے ہوا۔
اب فیروز کو آدھے راستے میں یاد آیا کہ جو خط بادشاہ نے اسے دیا تھا وہ تو گھر پر ہی چھوڑ آیا ہے اس نے گھوڑے کو تیزی سے واپس موڑا اور اپنے گھر کی طرف لپکا۔ فیروز اپنے گھر پہنچا تو تکیے کے نیچے سے خط نکالتے وقت اسکی نظر پلنگ کے نیچے پڑے بادشاہ کے نعال (چپل) پر پڑی جو وہ جلدی میں بھول گیا تھا۔
فیروز کا سر چکرا کر رہے گیا اور وہ سمجھ گیا کہ بادشاہ نے اس کو سفر پر صرف اس لیئے بیھجا تاکہ وہ اپنا مطلب پورا کر سکے۔ فیروز کسی کو کچھ بتائے بغیر چپ چاپ گھر سے نکلا ۔ خط لے کر وہ چل پڑا اور کام ختم کرنے کے بعد بادشاہ کے پاس واپس آیا تو بادشاہ نے انعام کے طور پر اسے سو ١٠٠ دینار دیئے۔ فیروز دینار لے کر بازار گیا اور عورتوں کے استعمال کے قیمتی کپڑے اور کچھ تحائف بھی خریدئیے۔ گھر پہنچ کر بیوی کو سلام کیا اور کہا چلو تمہارے میکے چلتے ہیں۔
بیوی نے پوچھا: یہ کیا ہے؟
کہا: بادشاہ نے انعام دیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ پہن کر اپنے گھر والوں کو بھی دکھاو۔
بیوی : جیسے آپ چاہئیں، بیوی تیار ہوئی اور اپنے والدین کے گھر اپنے شوہر کے ساتھ روانہ ہوئی داماد اور بیٹی اور انکے لیئے لائے گے تحائف کو دیکھ کر وہ لوگ بہت خوش ہوئے۔
فیروز بیوی کو چھوڑ کر واپس آ گیا اور ایک مہینہ گزرنے کے باوجود نہ بیوی کا پوچھا اور نہ اسکو واپس بلایا۔
پھر کچھ دن بعد اسکے سالے اس سے ملنے آئے اور اس سے پوچھا: فیروز آپ ہمیں ہماری بہن سے غصے اور ناراضگی کی وجہ بتائیں یا پھر ہم آپکو قاضی کے سامنے پیش کریں گئے۔
تو اس نے کہا: اگر تم چاہو تو کر لو لیکن میرے ذمے اسکا ایسا کوئی حق باقی نہیں جو میں ادا نہ کیا ہو۔
وہ لوگ اپنا کیس قاضی کے پاس لے گئے تو قاضی نے فیروز کو بلایا۔
قاضی اس وقت بادشاہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ لڑکی کے بھائیوں نے کہا: اللّٰه بادشاہ سلامت اور قاضی القضاہ کو قیام ودائم رکھیں۔ قاضی صاحب ہم نے ایک سر سبز باغ، درخت پھلوں سے بھرے ہوئے اور ساتھ میں میٹھے پانی کا کنواں اس شخص کے حوالے میں دیا۔ تو اس شخص نے ہمارا باغ اجاڑ دیا سارے پھل کھا لیئے، درخت کاٹ لئیے اور کنویں کو خراب کر کے بند کردیا۔
قاضی فیروز کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: ہاں تو لڑکے تم کیا کہتے ہو اس بارے میں؟
فیروز نے کہا: قاضی صاحب جو باغ مجھے دیا گیا تھا وہ اس سے بہتر حالت میں نے انہیں واپس کیا ہے۔
قاضی نے پوچھا: کیا اس نے باغ تمھارے حوالے ویسی ہی حالت واپس کیا ہے جیسے پہلے تھا؟
انہوں نے کہا : ہاں ویسے ہی حالت میں واپس کیا ہے لیکن ہم اس سے باغ واپس کرنے کی وجہ پوچھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
قاضی: ہاں فیروز تم کیا کہنا چاہتے ہو اس بارے؟
فیروز نے کہا: قاضی صاحب میں باغ کسی بعض یا نفرت کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ اسلیئے چھوڑا کہ ایک دن میں باغ میں آیا تو اس میں ، میں نے شیر کے پنجوں کے نشان دیکھے۔تو مجھے خوف ہوا کہ شیر مجھے کھا جائے گا اسلیئے شیر کے اکرام کی وجہ سے میں نے باغ میں جانا بند کردیا۔
بادشاہ جو ٹیک لگائے یہ سب کچھ سن رہا تھا، اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا۔ فیروز اپنے باغ کی طرف امن اور مطمئن ہو کر جاو۔ واللہ اس میں کوئی سک نہیں کہشیر تمھارے باغ آیا تھا لیکن وہ وہاں پر نہ تو کوئی اثر چھوڑ سکا ،نہ کوئی پتا توڑ سکا اور نہ ہی کوئی پھل کھا سکا وہ وہاں پر تھوڑی دیر رہا اور مایوس ہو کر لوٹ گیا اور خدا کی قسم میں نے کبھی تمھارے جیسے باغ کے گرد لگے مظبوط دیواریں نہیں دیکھیں۔
تو فیروز اپنے گھر لوٹ آیا اور اپنی بیوی کو بھی واپس لے لیا۔ نہ تو قاضی کو پتہ چلا اور نہ ہی کسی اور کو کہ ماجرا کیا تھا!!!
کیا خوب بہتر ہے اپنے اہل وعیال کے راز چھپنا اپنی تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے
اپنے گھروں کے بھید کسی پر ظاہر نہ ہونے دو۔.اللہ آپ لوگوں کی اوقات خوشیوں سے بھر دے آپکو ، آپ کے اہل وعیال کو اور آپکے مال کو اپنے حفظ و امان میں رکھےد 💞)

" دوزخ کی آگ "

بغداد میں ایک نوجوان تھا ۔وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا ۔ وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے شکل دیتا تھا ۔
لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟ 
اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ " اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی اور اس کے والدین عمرے کے لیے گئے ، اور کسی حادثے کا شکار ہو کے وہ دونوں فوت ہو گئے ۔ اور یہ لڑکی بے یار و مددگار اس شہر میں رہنے لگی ۔وہ لڑکی پردے کی پلی ہوئی ، گھر کے اندر رہنے والی لڑکی تھی اب اس کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ زندگی کیسے گزارے ۔ 
آخر کار نہایت غمزدہ اور پریشانی کی حالت میں وہ باہر سڑک پر نکل آئی ۔ اس نے میرے دروازے پر دستک دی اور کہا " کیا ٹھنڈا پانی مل سکتا ہے " ؟میں نے کہا ہاں اور اندر سے اس لڑکی کو ٹھنڈا پانی لا کر پلایا اور اس لڑکی نے کہا خدا تمہارا بھلا کرے ۔ میں نے اس سے پوچھا کیا تم نے کچھ کھایا بھی ہے کہ نہیں ؟ 
اس لڑکی نے کہا نہیں میں نے کچھ نہیں کھایا ۔میں نے اس سے اکیلے اس طرح پھرنے کی وجہ پوچھی تو اس لڑکی نے اپنے اوپر گزرا سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی میں زندگی کیسے بسر کروں۔ میں نے اس سے کہا کہ تم شام کو یہیں میرے گھر آجانا اور میرے ساتھ کھانا کھانا ۔ میں تمھیں تمہاری پسند کا ڈنر کھلاونگا وہ لڑکی چلی گئی ۔اس نوجوان نے بتایا کہ میں نے اس کے لیے کباب اور بہت اچھی اچھی چیزیں تیار کیں وہ شام کے وقت میرے گھر آگئی اور میں نے کھانا اس کے آگے چن دیا ۔جب اس لڑکی نے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو میں نے دروازے کی چٹخنی چڑھا دی اور میری نیت بدل گئی کیوں کہ وہ انتہا درجے کا ایک آسان موقع تھا ۔جو میری دسترس میں تھا ۔جب میں نے دروازے کی چٹخنی چڑہائی تو اس لڑکی نے پلٹ کر دیکھا اور اس نے کہا کہ میں بہت مایوس اور قریب المرگ اور اس دنیا سے گزر جانے والی ہوں ۔ 
اس نے مزید کہا " اے میرے پیارے بھائی تو مجھے خدا کے نام پر چھوڑ دے " ۔
وہ نوجوان کہنے لگا میرے سر پر برائی کا بھوت سوار تھا - میں نے اس سے کہا کہ ایسا موقع مجھے کبھی نہیں ملے گا میں تمھیں نہیں چھوڑ سکتا ۔اس لڑکی نے مجھے کہا کہ " میں تمھیں خدا اور اس کے رسول کے نام پردرخواست کرتی ہوں کہ میرے پاس سوائے میری عزت کے کچھ نہیں ہے اور ایسا نہ ہو کہ میری عزت بھی پامال ہو جائے اور میرے پاس کچھ بھی نہ بچے اور پھر اس حالت میں اگر میں زندہ بھی رہوں تو مردوں ہی کی طرح جیئوں " ۔
اس نوجوان نے بتایا کہ لڑکی کی یہ بات سن کرمجھ پر خدا جانے کیا اثر ہوا ، میں نے دروازے کی چٹخنی کھولی اور دست بستہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہا کہ " مجھے معاف کر دینا میرے اوپر ایک ایسی کیفیت گزری تھی جس میں میں نبرد آزما نہیں ہو سکا تھا لیکن اب وہ کیفیت دور ہو گئی ہے تم شوق سے کھانا کھاؤ اور اب سے تم میری بہن ہو" ۔ 
یہ سن کر اس لڑکی نے کہا کہ " اے الله میرے اس بھائی پر دوزخ کی آگ حرام کر دے " ۔
یہ کہ کر وہ رونے لگی اور اونچی آواز میں روتے ہوئی کہنے لگی کہ " اے الله نہ صرف دوزخ کی آگ حرام کر دے بلکہ اس پر ہر طرح کی آگ حرام کر دے "۔ نوجوان نے بتایا کہ لڑکی یہ دعا دے کر چلی گئی ۔ایک دن میرے پاس زنبور (جمور) نہیں تھا اور میں دھونکنی چلا کر نعل گرم کر رہا تھا میں نے زنبور پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو وہ دہکتے ہوئے کوئلوں میں چلا گیا لیکن میرے ہاتھ پر آگ کا کوئی اثر نہ ہوا ۔میں حیران ہوا اور پھر مجھے اس لڑکی کی وہ دعا یاد آئی اور تب سے لے کر اب تک میں اس دہکتی ہوئی آگ کو آگ نہیں سمجھتا ہوں بلکہ اس میں سے جو چاہے بغیر کسی ڈر کے نکال لیتا ہوں ۔

جس نے یہ تحریر ہی نا پڑھی تو پھر اس نے کیا پڑھا


جس نے یہ تحریر ہی نا پڑھی تو پھر اس نے کیا پڑھا
ایک چھوٹا سا بورڈ ریڑھی کی چھت سے لٹک رہا تھا، اس پر موٹے مارکر سے لکھا ہوا تھا،
''گھر میں کوئی نہیں ھے، میری بوڑھی ماں فالج زدہ ہے، مجھے تھوڑی تھوڑی دیر بعد انهیں کھانا اور اتنی ہی مرتبه حاجت کرانی پڑتی ہے، اگر آپ کو جلدی ھے تو اپنی مرضی سے فروٹ تول لیں اور پیسے کونے پر کر ریگزین کےگتے کے نیچے رکھ دیجیے . ساتھ ھی ریٹ بھی لکھے ھوۓ هیں
اور اگر آپ کے پاس پیسے نه ھوں، تو میری طرف سے لے لینا, اجازت ہے!
. وللہ خیرالرازقین!
ادھر اُدھر دیکھا، پاس پڑے ترازو میں دو کلو سیب تولے، درجن کیلے لیے، شاپر میں ڈالے، پرائس لسٹ سے قیمت دیکھی، پیسے نکال کر ریڑھی کے پھٹے کے گتے والے کونے کو اٹھایا، وہاں سو پچاس دس دس کے نوٹ پڑے تھی، میں نے پیسے اسی میں رکھ کر اسے ڈھک دیا، ادھر اُدھر دیکھا کہ شاید کوئی میری طرف متوجہ ہو، اور شاپر اٹھا کر واپس فلیٹ پر آگیا. ، افطار کے بعد میں اور بھائی ادھر گئے. دیکھا اک باریش آدمی ، داڑھی آدھی کالی آدھی سفید ، ہلکے کریم کلر کرتے شلوار میں ریڑھی کو دھکا لگا کر بس جانے ہی والا تھا وه ھمیں دیکھکر مسکرایا اور بولا" صاحب ! پھل تو ختم ہوگیا 
نام پوچھا تو بولا خادم حسین 
پھر ہم سامنے ڈھابے پہ بیٹھے تھے.
چائے آئی، کہنے لگا "پچھلے تین سال سے اماں بستر پر ھے، کچھ نفسیاتی سی بھی ہوگئی ہے، اور اب تو فالج بھی ہوگیا ہے، میرا کوئی بال بچہ نہیں، بیوی مر گئی ہے، صرف میں ھوں اور میری اماں. اماں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نهیں اس لئے مجھے ھروقت اماں کا خیال رکھنا پڑتا ھے"
اک دن میں نے اماں کے پاؤں دباتے ھوۓ بڑی نرمی لجالت سے کہا، "اماں! تیری تیمار داری کو تو بڑا جی کرتا ہے. پر جیب میں کچھ نھیں تو مجھے کمرے سے ہلنے نہیں دیتی، کہتی ہے تو جاتا ہے تو جی گھبراتا ہے، تو ہی بتا میں کیا کروں؟ "
اب کیا غیب سے کھانا اترے گا ؟ نہ میں بنی اسرائیل کا جنا ہوں نہ تو موسیٰ کی ماں ہے، کیا کروں! یه سن کر اماں نے ہانپتے کانپتے اٹھنے کی کوشش کی, میں نے تکیہ اونچا کر کے اسکو بٹھایا ,ٹیک لگوائی، انھوں نے جھریوں والا چھره اٹھایا اپنے کمزور ہاتھوں کا پیالا بنا یا، اور نه جانے رب العالمین سے کیا بات کی، پهر بولی " تو ریڑھی وہی چھوڑ آیا کر، تیرا رزق تجھے اسی کمرے میں بیٹھ کر ملے گا"
، میں نے کہا " اماں کیا بات کرتی ھے, وہاں چھوڑ آؤں گا تو کوئی چور اچکا سب کچھ لے جاۓ گا، آجکل کون لحاظ کرتا ھے؟ بنا مالک کے کون خریدار آئے گا؟"
کہنے لگی "تو فجر کو ریڑھی پھلوں سے بھر کرچھوڑ کر آجا بس، زیادہ بک بک نیئں کر، شام کو خالی لے آیا کر، اگر تیرا روپیہ گیا تو یه خالدہ ثریا الله سے پائی پائی وصول دیگی".
"ڈھائی سال ہوگئے ہیں بھائی!صبح ریڑھی لگا جاتا ہوں. شام کو لے جاتا ہوں، لوگ پیسے رکھ جاتے پھل لے جاتے، دھیلا اوپر نیچے نہیں ہوتا، بلکہ کچھ تو زیادہ رکھ جاتے، اکثر تخمینہ نفع لاگت سے تین چار سو اوپر ہی جا نکلتاھے، کبھی کوئی اماں کے لیے پھول رکھ جاتا ہے، کبھی کوئی اور چیز! پرسوں ایک پڑھی لکھی بچی پلاؤ بنا کر رکھ گئی، نوٹ لکھکر رکھ گئی "اماں کے لیے"،. اک ڈاکٹر کا گزر ہوا، وہ اپنا کارڈ چھوڑ گیا. پشت پہ لکھ گیا. "انکل! اماں کی طبیعت نہ سنبھلے تو مجھے فون کرنا، میں گھر سے پک کر لوں گا" کسی حاجی صاحب کا گزر ہوا تو عجوہ کجھور کا پیکٹ چھوڑ گیا، کوئی جوڑا شاپنگ کرکے گزرا تو فروٹ لیتے ہوئے اماں کے لیے سوٹ رکھ گیا، روزانہ ایسا کچھ نہ کچھ میرے رزق کے ساتھ موجود ہوتا ہے، نہ اماں ہلنے دیتی ہے نہ اللہ رکنے دیتا ہے. اماں تو کہتی تیرا پھل بیچنے کے لئے، اللہ خود نیچے اتر آتا ہے، اور بیچ باچ جاتا ہے، بھائی! وه سوھنا رب اک تو رازق ھے، اوپر سے ریٹیلر بھی ھے، اللہ اللہ
آخر میں مجھے اپنے دوستوں سے کھنا ھے اگر آپ فارغ ھوں اور اپنے والدین کو کام کرتے دیکھیں تو فورأ اٹھکر انکی مدد کریں اور انهیں کھیں "امی جان!
ابا جان! "لائیے میں آپکی مدد کرتا / کرتی ھوں"
پهر دیکهیں دنیا و آخرت کی کامیابیاں کیسے تمھارے قدم چومتی ھیں! انشاءالله!
ایک شئیر کر دیں شاید آپ کے ایک شیئر سے کسی کا بھلا ہو جاۓ
الداعی الی الخیر۔




اللہ سے بڑھ کر کوئی ہمدرد اور دوست نہیں۔۔۔

حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے میں اسے نماز پڑھتا دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ پچیس چھبیس سال کا خوبصورت نوجوان قتل کے مقدمے میں دو دن پہلے ہی یہاں لایا گیا تھا جہاں سے چند دن بعد عدالتی کاروائی کے بعد اسے جیل منتقل کیا جانا تھا۔۔۔ اس کے خلاف کیس کافی مضبوط تھا اس لیے گمان غالب تھا کہ ایک دو پیشیوں کے بعد ہی اسے سزائے موت سنا دی جائے گی۔۔۔
میں ایک پولیس والا ہوں، اور پہلے دن سے ہی میرا رویہ اور لہجہ اس کے ساتھ کافی سخت رہا تھا۔۔۔لیکن اس کے لبوں پر ہمیشہ ایک دل موہ لینے والی مسکراہٹ ہوتی تھی اور ہمیشہ وہ مجھے بڑا سمجھتے ہوئے ادب سے اور نرم لہجے میں بات کرتا تھا۔۔۔
اور مجھ جیسا سخت انسان بھی دو دن میں ہی اس کے اچھے اخلاق کے سامنے ہار گیا تھا۔۔۔
اب وہ سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگ رہا تھا۔۔۔ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔ وہ اس طرح خشوع و خضوع سے دعا مانگ رہا تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ جس سے مانگ رہا ہے وہ اس کے بالکل سامنے بیٹھا ہو۔۔۔
دعا کے بعد اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس کے لبوں پر پھر وہی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔ وہ اٹھ کر میرے پاس آیا اور ہمیشہ کی طرح میرا حال احوال پوچھا۔۔
آج خلاف معمول میرا لہجہ کافی نرم تھا۔۔
باتوں کے دوران میں نے اس سے پوچھا کہ کیا واقعی اس نے قتل جیسا جرم کیا ہے۔۔ کیونکہ مجھے اس کی معصومیت سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ قتل جیسا جرم کر سکتا ہے۔۔۔
"ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔۔ تو پھر میں ایسا گھناونا جرم کیسے کرسکتا ہوں؟"
اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔
"تو پھر؟"
میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
"جب اللہ اس دنیا میں کسی کو اختیارات دیتا ہے نا تو اکثر لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ اختیارات اللہ کی طرف سے امانت ہیں۔۔۔ وہ ان سب کو اپنا کمال اور حق سمجھ بیٹھتے ہیں۔۔۔
میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔ ہمارے علاقے کے ایک بااثر انسان نے قتل کردیا اور اتفاق سے میں وہاں سے چند قدم ہی دور تھا۔۔۔ اس نے الزام مجھ پر لگا دیا۔۔ جھوٹے گواہ بھی تیار کرلیے گئے اور میں یہاں آگیا"
مجھے دکھ سا ہوا۔۔۔
"تو تمہارے گھر والون نے کچھ نہیں کیا؟"
"گھر والوں نے اپنی سی کوشش کی لیکن وہی بات اس معاشرے میں لوگ بھی ڈر کے مارے اسی کا ساتھ دیتے ہیں جو طاقتور ہو"
وہ پھر سے مسکرایا تھا ۔۔
مجھے اس کے سکون کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔۔
"تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ ہو سکتا ہے کچھ دنوں تک تمہیں موت کی سزا سنا دی جائے؟"
"ان شاءاللہ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ میں نے اس کے آگے اپنی عرضی رکھ دی ہے جس کے سامنے بڑے سے بڑے بادشاہ کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔۔"
اس نے پر یقین لہجے میں جواب دیا۔۔
میں نے پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
"میں اپنے اللہ کی بات کررہا ہوں۔۔۔ اسے میری بے گناہی کا علم ہے اور وہ مجھے کچھ نہیں ہونے دے گا"
اس کے ہر ہر لفظ سے محبت ٹپک رہی تھی۔
"تمہیں یقین ہے کہ دعا سے کام ہوجائے گا۔۔۔؟ اگر نہ ہوا تو۔۔۔؟؟" 
میں نے پوچھا۔۔
"جب اس سے مانگا جاتا ہے نا تو پھر شک میں نہیں پڑتے کہ وہ قبول نہیں کرے گا۔۔۔ بس سب کچھ اس پر چھوڑ کر انتظار کرتے ہیں"
اس کے لہجے میں یقین ہی یقین تھا۔۔۔ میں بس اس کے چہرے کو تکتا رہ گیا کہ اس سے پہلے اللہ پر اتنا یقین شاید ہی کسی میں دیکھا ہو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین دن مزید گزر گئے۔۔ اس دوران اس کے گھر والے بھی اس سے ملنے آئے تھے۔۔۔ وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ ماں کا رو رو کر برا حال تھا لیکن اس کے سکون میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔۔ وہ مسلسل سمجھاتا رہا کہ میں نے اللہ کے سامنے عرضی رکھ دی ہے اسے پتا ہے میں بے گناہ ہوں دیکھ لیجئے گا وہ مجھے کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔
میں نے اللہ پر اتنا یقین اس سے پہلے صرف پڑھا ہی تھا لیکن کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔میرے دل میں اب اس کے لیے عقیدت کے جذبات پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ شاید اللہ کی محبت ہوتی ہی ایسی ہے جو پتھر دل کو بھی پگھلا دیتی ہے۔۔۔
اور پھر جب اسے عدالت میں پیش کیا جانا تھا اس سے ایک دن پہلے ہی عجیب واقعہ ہوا۔۔۔
جس شخص نے خود قتل کرکے الزام اس پر لگایا تھا وہ اپنی بیوی اور اکلوتے بچے کے ساتھ گاڑی میں کہیں جارہا تھا کہ اسے ایک خوفناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں اس کی بیوی اور بچہ تو موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ اسے شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔۔۔ کافی گھنٹوں بعد ہوش میں آنے کے بعد اسے بیوی اور بچے کے مرنے کی خبر ملی تو اس کی حالت اور بگڑ گئی۔۔۔ 
اسی جان کنی کے عالم میں اسے کچھ یاد آیا۔۔۔ اس نے چیخ کر قریب موجود ڈاکٹر کو اس کی ویڈیو بنانے کا کہا۔۔۔ بار بار اصرار پر ڈاکٹر نے نرس کو ویڈیو بنانے کا اشارہ کیا تو اس نے ویڈیو میں بڑی مشکل سے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور اس نوجوان کو بے گناہ قرار دے کر ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔۔۔
اس نے ڈاکٹر سے وعدہ لیا کہ وہ یہ ویڈیو ضرور پولیس سٹیشن لے کر جائے گا۔۔۔۔۔ شاید بیوی بچے کے مرنے کے بعد اور اپنی حالت کا علم ہوجانے کے بعد وہ اس گناہ کو ساتھ لے کر مرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
ادھر ویڈیو پولیس سٹیشن پہنچی ادھر وہ آدمی مرگیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج عدالت میں اس کی پیشی تھی۔۔ عدالت کے سامنے اس کی بے گناہی کا ناقابل تردید ثبوت ویڈیو کی شکل میں موجود تھا۔۔ لہذا اسے باعزت بری کر دیا گیا۔۔۔
میں کمرہ عدالت میں کھڑا گم سم سا سوچ رہا تھا کہ اللہ ان بندوں کی جو صحیح معنوں میں اس پر ایمان لاتے ہیں ان کی ایسے بھی مدد کرسکتا ہے۔۔۔
اس کی ہتھکڑیاں کھول دی گئی تھیں ماں روتے ہوئے اس سے لپٹ گئی تھی باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔۔۔
آج اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔۔ شاید اس وجہ سے کہ اللہ نے اسے ان حالات میں تنہا نہیں چھوڑا تھا اور اس طرح سے اس کی مدد کی تھی جس کا کسی کو وہم و گمان تک نہ تھا۔۔
اور مجھے یاد ہے مجھ سے ملنے کے بعد جب وہ جانے لگا تھا تو میں نے اسے کہا تھا کہ وہ کوئی ایسی بات بتا کر جائے جسے میں ہمیشہ یاد رکھوں۔۔
تو اس کے الفاظ تھے۔۔
*"اللہ سے بڑھ کر کوئی ہمدرد اور دوست نہیں۔۔۔ جب بھی کوئی مشکل پیش آئے اسی سے مانگیں اور پھر یقین بھی رکھیں کہ وہ قبول کرے گا۔۔۔ وہ محض کسی سوچ یا تصور کا نام تو ہے نہیں۔۔۔ بلکہ وہ تو ایک زندہ حقیقت ہے۔۔۔ وہ اس وقت بھی ہمارے ساتھ ہے۔۔ شہ رگ سے بھی قریب۔۔ وہ ہمیں دیکھتا رہتا ہے کہ مشکل میں ہمارا رد عمل کیا ہوگا۔۔ اور جو اس سے مانگ کر شک میں نہیں پڑتے، اللہ بھی انھیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔۔۔ ایسے طریقوں سے اس کی مدد کرتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے"*
وہ اب واپس جارہا تھا اور مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں آج ہی مسلمان ہوا ہوں یا جیسے میں نے آج اپنے اللہ کو پالیا ہے۔۔۔



Thanks for reading plz share this post ۔

Thursday, October 25, 2018

The Old Man and the Tiger بوڑھا آدمی اورچیتا

A poor old man lived with his large family in a small hut in the middle  of a forest.
ایک غریب بوڑھا آدمی اپنے بڑے خاندان کے ساتھ ایک جنگل کے وسط میں ایک چھوٹا سا جهگی میں رہتا تھا.
He was a woodcutter.
  وہ ایک لکڑ ہارا. تھا. 
His sons and daughters were very young .   
    اس کے بیٹےاور بیٹیاں بہت جوان تھیں. 
His wife was busy cooking ,cleaning ,washing, and looking after the children.
.اس کی بیوی بچوں کو کھانا پکانے، صفائی، دھونے اور دیکھ بھال میں مصروف تھی.
She could not help him earn money.
اس نے پیسہ کمانے میں مدد نہیں سکی.

Every day the old man went deep into the forest and chopped wood.
ہر روز بوڑھا آدمی دور جنگل میں جاتا اور لکڑی کاٹتا ..
.He gathered the wood , tied it in a bundle, and carried it on his donkey to a nearby village market.
وہ لکڑی جمع کرتا، اسے کے  بنڈل بناتا، اور اس کو گدھے پر قریبی گاؤں کے بازار پر لے جاتا۔
He sold the wood and bought food for his family.
وہ لکڑیوں کو فروخت کرتا اور اپنے خاندان کے لئے کھانا خریدتا تھا۔
One day when the old man was busy at work he heard a loud growl.
ایک دن جب بوڑھا شخص  کام پر مصروف تھا تو اسےغرّانا آواز  سنائی دی-
He put down his axe and stood very still.
اس نے اپنی کلہاڑی کو نیچے رکھا اور اب بھی کھڑا تھا.
He was afraid of ghosts, and thought to himself .
وہ بھوت سے خوفزدہ تھا اور خود کو سوچا.
'Oh', dear me! If that is a ghost it may do me some harm.
اوہ، مجھے پیارے! اگر یہ ایک بھوت ہے تو مجھے کچھ نقصان پہنچا سکتا ہے
He was very frightened.
وہ بہت خوفزدہ تھا.
Just then, a large tiger came out of the bushes.
اس کے بعد، ایک بڑا شیر جھاڑیوں سے باہر آیا.
Don't be frightened, old man,'said the tiger.
شیر نے کہا، خوف نہ کرو، بوڑھے آدمی.
I won't harm you.
میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا.
You work very hard.
تم بہت سخت کام کرتے ہو
Sit down and rest for a while and let me do your work.
تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ جاؤ اور آرام کرو اور مجھے تمہارا کام کرنا ہے.
The old man was surprised .
بوڑھے آدمی حیران تھا.
He did not know that tigers could talk, and what,s more, this tiger was offering to help him.
وہ نہیں جانتے تھے کہ چیتا  بات کرسکتا ہے، اور اس کے علاوہ، اس شیر نے اس کی مدد کرنے کی پیشکش کی تھی.
How kind you are, dear tiger ,' he said.
اس نے کہا کہ آپ کتنےمہربان ہیں، پیارے شیر.

The old man rested under a tree while the tiger worked.
جبتک چیتے نے کام کیا تب تک بوڑھا آدمی نے ایک درخت کے نیچے آرام کیا۔
Soon all the wood was cut.
جلد ہی تمام لکڑی کاٹ گئی تھیں.
The old man and the tiger tied the wood into a bundle and loaded it on to the donkey's back.
بوڑھا آدمی اورچیتا نے لکڑی کو بینڈل میں بند ھا اور اسے گدی کی پشت پررکھا.
.
The old man thanked the tiger, and went off to sell the wood.
بوڑھا آدمی نے شیر کا شکریہ ادا کیا، اور لکڑی کو فروخت کرنے کے لئے چلا گیا.
The next day the tiger arrived and helped the old man again.
اگلے دن شیر آ گیا اور پھر بوڑھے آدمی کی مدد کی.
This went on for some weeks.
یہ کچھ ہفتوں تک چلا گیا.
One day, after their work was finished , the tiger lay down and rested his head in the old man's lap.
ایک دن، ان کے کام ختم ہونے کے بعد، چیتا نیچے لیٹ گیا اور اس اپنا سر آدمی کی گود میں رکھا.
The old man stroked the tiger's fine coat.
بوڑھا آدمی نے شیر کے ٹھیک کوٹ پھینک دیا.
The tiger purred like a cat.

شیر بلی کی طرح پھنس گیا.
He looked up into the old man's eyes and asked, Am I handsome?.
اس نے بوڑھے آدمی کی آنکھوں میں دیکھا اور پوچھا، میں خوبصورت ہوں.
Oh, yes indeed,'replied the old man.
اوہ، جی ہاں، بوڑھے آدمی نے جواب دیا.
You are very handsome.
آپ بہت خوبصورت ہیں
Am I strong ? asked the tiger.
کیا میں مضبوط ہوں؟ شیر سے پوچھا.
Yes, of course.
جی بلکل.
You are extremely strong,' replied the old man.
آپ بہت مضبوط ہیں، 'بوڑھے آدمی نے جواب دیا.
Am I young and full of energy ?
کیا میں جوان ہوں اور توانائی سے بھرپور ہوں؟
asked the tiger.
شیر سے پوچھا.
Yes , yes replied the old man , You certainly are.
جی ہاں، ہاں بوڑھے آدمی نے جواب دیا، تم ضرور ہو.
Ah! sighed the tiger. I have all the graces.
اہ! شیر نے سنا. میرے پاس تمام ادائیں ہیں.
You surely do, said the old man.
آپ واقعی ضرور کرتے ہیں، بوڑھے آدمی نے کہا.

But , do you know , you have one fault?
لیکن، کیا آپ جانتے ہیں، آپ کو ایک غلطی ہے؟

Your skin stinks.
آپ کی جلد بدبودار
You are certainly very smelly.
تم یقینی طور پر بدبودار بدل رہے ہو.
So, if you don't mind , please take  your  head off my lap.
لہذا، اگر آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہے، تو براہ مہربانی میری گود سے اپنا سر ہٹاۃو
My wife will throw me out if I smell like you!.
اگر میں تمہاری طرح بدبودار ہوتا تو میری بیوی مجھے باہر ڈال دیں گے.
The tiger immediately stopped purring.
ٹائیگر نے فوری طور پر روک دیا.
He got up and brought the axe.
وہ اٹھ کھڑاہوا اورکلہارا لے لیا
Come, take this axe, my friend .
آو، میرے دوست، یہ کلہارا لے لو.
Strike me on the back,'said the tiger.
شیر نے کہا کہ مجھے پیچھے ہڑتال کرو.
Oh,said the old man.
اوہ، بوڑھے آدمی نے کہا.
I can't possibly hurt you.
میں آپ کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچا نہیں سکتا.
But I wish it ,' said the tiger, and he began to growl.
لیکن میں یہ چاہتا ہوں، 'شیر نے کہا، اور وہ غرّانا لگا
The old man did not know what to do , so he shrugged his shoulders, lifted the axe, and then brought it down on the tiger's back.
بوڑھا آدمی نہیں جانتا تھا کہ کیا کرنا ہے،اس نے اپنے کندھوں کو چھڑکایا، اس نے کلہارا کو اٹھایا اور پھر اس کےچیتے کی پیٹھ پر لایا.
A wound  about two fingers deep opened near the tiger's back , and the blood spurted out.
شیر کے پیچھے کے قریب دو انگلیوں کے گہرے کھلے زخم لگے گئے، اور خون باہر پھینک دیا.
It made the tiger coat red and sticky.
اس نے چیتا کو کوٹ سرخ اور چپچپا بنایا.
The tiger went off into the forest , and the old man took his wood to the market.
شیر جنگل میں گیا اور بوڑھے آدمی نے اپنی لکڑی کو مارکیٹ میں لے گیا۔
The next day the old man went about his work.
اگلے دن بوڑھا آدمی اپنے کام کے بارے میں چلا گیا.
The tiger came and watched him from a distance , but said nothing .
شیر آیا اور اس نے فاصلے سے دیکھا، لیکن کچھ بھی نہیں کہا.
The old man began to feel frightened.
بوڑھا انسان خوفزدہ محسوس کرنے لگا.
Time went by and then,one day, the tiger suddenly sprang out from behind  a bush toward the old man.
وقت گزر گیا اور اس کے بعد، ایک دن، شیر نے اچانک  جھاڑری کے پیچھے سے بوڑھے آدمی کو باہر پھینک دیا.
He said , look at the my back, old man what can you see now?
اس نے کہا، میری پیٹھ دیکھو، بوڑھے آدمی آپ اب کیا دیکھ سکتے ہیں؟
The old man looked carefully , but he couldn't find the axe wound.
بوڑھے آدمینے احتیاط سے دیکھا، لیکن وہ کلہارے کا زخم نہیں پا سکا.
It is healed!, he exclaimed . there is no mark there!
یہ ٹھیک ہے !، اس نے اعلان کیا. وہاں کوئی نشان نہیں ہے!
Yes, replies the tiger.
ہاں، شیرنے جواب دیا.
The has healed , but your harsh words have stayed in my heart.
زخم شفا ہے، لیکن آپ کےسخت الفاظ میے دل میں باقی رہے ہیں.
That can never be healed.
یہ کبھی بھی مٹ نہیں  سکتا ہے.
I will always remember what you said about my stinking skin.
میں ہمیشہ یادرہے گاجو تم نے میری جلد کے بارے میں کہا.تھا
You must now leave the forest , or I shall eat you up!' And with that he gave an enormous roar.
تمہیں ابھی جنگل چھوڑنا ہوگا، یا میں تمہیں کھا دونگا! ' اور اس کے ساتھ انہوں نے ایک بہت بڑا راستہ دیا.
The old man left the forest and from that day he feared all tigers.
بوڑھے آدمی نے جنگل کو چھوڑ دیا اور اس دن سے وہ تمام شیروں سے ڈرتے تھے.
Other men too are now afraid of tigers.
دیگر لوگ اب بھی شیروں سے ڈرتے ہیں.
it is good to remember that:
یہ یاد رکھنا اچھا ہے کہ:
Knives and axes flash like day,
harsh word, hower, always stay.
چاقو اور کلہارا دن کی طرح فلیش،
سخت لفظ، گھڑی، ہمیشہ رہیں.

Translated by Saima khan






                                                                                                                                                                                                                  
                                                                                                                                           

Com

ایک حکیم اور اسکی بیوی کا اللہ پر بھروسہ

پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے، جن کا مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ حکیم صاحب روزانہ صبح مطب جانے سے قبل بیو...