Tuesday, November 20, 2018

پرچی پر لکھ دیا "تُم خُوبصورت ہو"


 جلد کے او۔پی۔ڈی میں روزانہ بے شُمار عورتیں علاج کرانے آتی ہیں ۔ چنچل لڑکیاں، نئی نویلی دُلہنیں، پرانی شادی شُدہ، حاملہ،ادھیڑ عُمر اور بزرگ خواتین،ہاؤس وائف ورکن ویمن،اور اکثر بالکل ان پڑھ۔ صُبح اپنے شوہر کو ناشتہ دے کر بچوں کو سکول بھیج کر ان خواتین کی بہت بڑی تعداد (دیگر خطرناک بیماریوں کے علاوہ) اپنے رنگ کا علاج کرانے کے لیے آتی ہیں۔ ڈاکٹر سے کہتی ہیں کہ کوئی ایسی دوائی دے دیں جن سے رنگ گورا ہو جائے۔ "کیوں" ؟؟ چونکہ ایک ماہ بعد شادی ہے۔ رشتہ والے دیکھ کر چلے جاتے ہیں۔ خاوند کہتا ہے چہرہ بُرا ہو گیا ہے دوسرے شادی کر لوُں گا۔ جاب پر جاتی ہوں تو سب مُڑمُڑ کر دیکھتے ہیں۔ بچیوں کی شادی کرنی ہے لوگ کہتے ہیں اگر ماں ایسی ہے تو بیٹی کیسی ہوگی۔ رنگ گورا کرنے کے لیے مکس کریم اور کولڈ کریم استعمال کی تھی چہرے پر دانے نکل آۓ۔
ایک ایسا مُلک جہاں جلد کی قُدرتی رنگت ہی سانولی یا گندمی ہے جو کہ بے حد دلکش ہے۔ ہم نے بہت چھوٹی عمر سے ہی اپنہ خواتین کے دماغ میں بٹھا دیا ہے کہ نہ ان کی تعلیم، نہ شخصیت نہ عقل، نہ فہم نہ تربیت اور نہ ہی قابلیت ان کو خوبصورت بنا سکتی ہے۔ اگر ان کو خوبصورت بنا سکتی ہے تو صرف رنگ گورا کرنے والی کریم۔ اگر کوئی چیز ان کے مسائل کا حال ہے تو وہ ہے ربگ گورا کرنے والی کریم۔
ڈاکٹر کے سامنے بیٹھی سترہ، اٹھارہ سال کی لڑکی ڈاکٹر کے کھلے ہوئے پین کو بہت اُمید کے ساتھ دیکھ رہی تھی کہ اس سے لکھی جانے والی کریم اس کےزندگی بدل دے گی۔ ڈاکٹر نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا اور اس پرچی پر لکھ دیا
"تُم خُوبصورت ہو"
تحریر: علی خاں ایڈووکیٹ

No comments:

Post a Comment

ایک حکیم اور اسکی بیوی کا اللہ پر بھروسہ

پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے، جن کا مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ حکیم صاحب روزانہ صبح مطب جانے سے قبل بیو...